از: سیّد حذیفہ علی ندوی، کیمبرج، برطانیہ

سارا جہان فریبِ راحت میں ہے؛
اصل درد تو غزہ میں لہو بن کر بہہ رہا ہے۔

اتوار کے روز لندن کی فضا میں ایک غیر معمولی منظر رقم ہوا۔ فلسطین کے حق میں چھ لاکھ پچاس ہزار سے زائد افراد سڑکوں پر جمع تھے۔ حیرت انگیز بات یہ تھی کہ ان میں اکثریت غیر مسلم تھی — وہ لوگ جو رنگ اور نسل کی تقسیم سے بالاتر ہو کر صرف انسانیت، عدل اور سچائی کے لیے نکلے تھے۔ ان کے چہروں پر درد، عزم اور مظلوموں کے ساتھ سچی ہمدردی کی روشنی تھی۔

اسی ہجوم میں میری ملاقات ایک بزرگ شخص سے ہوئی، جنہوں نے گلے میں ایک ہاتھ سے لکھا ہوا بورڈ لٹکایا تھا، جس پر درج تھا:

“میں نفرت پھیلانے کے لیے سڑک پر نہیں نکلا۔ میں اس لیے نکلا ہوں کہ غزہ میں نسل کشی، فلسطینیوں پر 77 سال سے جاری ظلم و ستم، اور اسرائیلی جنگی جرائم میں برطانوی شراکت پر اپنے غصے اور احتجاج کا اظہار کر سکوں۔”

میں نے ان کی تصویر لی — اور اس لمحے دل میں ایک گہرا اطمینان اُترا کہ انسانیت کا احساس اب بھی زندہ ہے، اور یہ احساس کسی مذہب کا محتاج نہیں۔

میں علماء کے بلاک کا حصہ ہونے کے ناتے اس مظاہرے میں مدعو تھا۔ یہ دیکھ کر دل مطمئن ہوا کہ وہاں نہ صرف عدل و انصاف کے نعرے بلند ہو رہے تھے بلکہ قرآنِ کریم بھی تقسیم کیے جا رہے تھے۔ گویا احتجاج کے ساتھ ساتھ یہ ایک دعوت کا موقع بھی بن گیا تھا، جس میں اسلام کی اصل روح — علم، رحمت اور عدل — خاموشی سے دلوں تک پہنچ رہی تھی۔ اسی موجودگی نے پورے مارچ کو ایک وقار اور معنویت عطا کی، اور یہ احساس پیدا کیا کہ امت کی قیادت شور سے نہیں، علم، حلم اور بصیرت سے آتی ہے۔

اسی موقع پر ذہن حلف الفضول کی طرف بھی گیا — وہ تاریخی معاہدہ جس میں رسولِ اکرم ﷺ نے بعثت سے قبل مظلوموں کا ساتھ دینے کے لیے شرکت فرمائی تھی۔ یہ مظاہرہ بھی اسی جذبے کی ایک جھلک تھا: ظلم کے مقابل کھڑا ہونا، چاہے کسی مذہب یا قوم سے تعلق کیوں نہ ہو۔

اور دل نے یاد دلایا کہ فرزدق کے دادا، صعصعہ بن ناجیہ، اسلام سے پہلے کے زمانۂ جاہلیت میں بھی بچیوں کو زندہ دفن ہونے سے بچاتے اور خدمتِ خلق و انصاف کے جذبے سے پہچانے جاتے تھے۔ گویا جب انسان کے اندر خیر جاگ اٹھے، تو ایمان کی خوشبو اس سے پہلے ہی محسوس ہونے لگتی ہے۔

یہ عظیم مارچ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ پر اختتام پذیر ہوا، جہاں ہزاروں افراد جمع ہو کر آخری نعروں اور دعاؤں میں شامل ہوئے۔ اس موقع پر کئی اراکینِ پارلیمان نے خطاب کیا، جنہوں نے نہ صرف غزہ میں انسانی المیے کی مذمت کی بلکہ برطانوی حکومت سے واضح پالیسی اختیار کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ وہ مناظر دل کو جھنجھوڑنے والے
تھے — عوام اور نمائندوں کی ایک اجتماعی صدائے احتجاج، جو ضمیرِ انسانی کی بیداری کی علامت تھی۔

ڈاؤننگ اسٹریٹ کے قریب فٹ پاتھ پر فلسطینی رنگوں کے حاشیے والا ایک طویل یادگاری بینر بچھا تھا؛ گزشتہ دو برس میں قتل ہونے والوں کے ہزاروں نام قطار در قطار درج تھے۔ لوگ رکتے، نام پڑھتے، پھر ایک لمحے کو خاموش کھڑے رہتے — یوں لگتا تھا جیسے شہر کے شور میں اچانک ایک جنازے کی سنجیدگی اتر آئی ہو۔ اس منظر نے یہ حقیقت پھر یاد دلائی کہ یہ محض اعداد نہیں، نام ہیں؛ اور ہر نام کے ساتھ ایک گھر، ایک خواب، ایک کہانی جڑی ہے۔

دل میں یہ احساس بار بار اُبھرتا رہا کہ جب آوازیں منظم، سنجیدہ اور پُرامن انداز میں بلند کی جاتی ہیں، تو وہ آخرکار اثر ڈالتی ہیں۔ شاید یہی مسلسل عوامی دباؤ اور بیداری ہے جس کے نتیجے میں برطانیہ نے حال ہی میں فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کیا۔ یہ اگرچہ ایک ابتدائی قدم ہے، مگر ایک امید بھرا موڑ بھی — اس بات کی علامت کہ قانونی اور پُرامن جدوجہد کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔

یہ مظاہرہ دراصل اس پیغام کا اعلان تھا کہ قانونی، باوقار اور اجتماعی انداز میں آواز اٹھانا ہی امت کی اصل قوت ہے۔ اسی کے ذریعے رائے عامہ کو بیدار کیا جا سکتا ہے، عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا جا سکتا ہے، اور ظلم کے نظام کے مقابل ایک اخلاقی و فکری محاذ قائم کیا جا سکتا ہے۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ بیداری وقتی نہ رہے — اسے منصوبہ بندی، دانشمندی، اور مستقل مزاجی کے ساتھ ایک پائیدار تحریک میں ڈھالا جائے؛ تاکہ دنیا دیکھے کہ امتِ مسلمہ خاموش نہیں، بلکہ عدل، امن اور انسانیت کے قیام کے لیے متحد، باشعور اور پرعزم ہے۔

1 thought on “لندن کی سڑکوں پر بیدار ضمیر کی صدا”

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top