سیّد حذیفہ علی ندوی — کیمبرج، برطانیہ
مولانا نذیر احمد ندویؒ اُن اساتذه میں سے تھے جن کے ہاں صرف معلومات نہیں ملتی، بلکہ مزاج تعمیر ہوتا تھا۔ مطالعہ وسیع، نظر دقیق، عربی و حدیث سمیت کئی علوم میں پختہ دسترس؛ مگر سب سے گہرا اثر اُن کی خشیتِ الٰہی، صفائے باطن اور طلبہ پر شفقت نے ڈالا۔ مجالسِ درس اور علمی نشستوں میں ایسی بے تکلّفی ہوتی کہ قرب بھی محفوظ رہتا، ادب مجروح نہ ہوتا۔ میں نے ندوہ میں اُن کی صحبت میں پورے دس برس گزارے—یہ قربت میرے لیے ایک مسلسل تربیت تھی، جو بعد کے برسوں میں میرے قلم میں ایک خاموش ترتیب بن کر سانس لیتی رہی۔
یہ قبولیت کی نشانی ہے: انہوں نے انتقال کے روز بھی حسبِ معمول چند اسباق پڑھائے اور پھر رخصت ہو گئے—یوں لگا کہ زندگی کا دھاگا آخری لمحے تک تدریس ہی سے بندھا رہا؛ ان کا جانا بہت کچھ کہہ گیا کہ جب علم کے ساتھ اخلاص جمع ہو تو چراغ آخر تک روشن رہتا ہے۔
زبان اُن کا خاص میدان تھا۔ وہ محض معلم نہیں، ذوقِ بیان کے معمار تھے۔ چار زبانوں میں مہارت نے اُنہیں ایسا باریکبین بنا دیا تھا کہ لفظ کے فقط معنی نہیں دیکھتے تھے بلکہ اس کا لہجہ، آہنگ، سایہ اور جملے میں بیٹھنے کی جگہ بھی پرکھتے۔ میں کبھی کسی عربی لفظ کا انگریزی متبادل پیش کرتا تو مسکرا کر فرماتے: “قریب ہے، مگر اصل کیفیت نہیں آئی—ایک بار پھر سوچیے۔” پھر دوسرا، تیسرا لفظ آتا تو کہتے: “اب بات پوری ہوئی۔” میں نے اُن سے سیکھا کہ ترجمہ صرف تقریبِ معنی نہیں، تہذیبِ معنی ہے؛ غلط متبادل پورے جملے کا مزاج بگاڑ دیتا ہے، اور درست لفظ اس میں جان ڈال دیتا ہے۔
عربی کی مشق کے لیے اُن کی ایک تمرین آج تک رہنما ہے۔ فرمایا کرتے: “ایک عمدہ مضمون منتخب کیجیے، بار بار پڑھیے؛ پھر متن ہٹا کر یاد سے اسی اسلوب میں لکھنے کی کوشش کیجیے۔” اس تقابل سے جو تعبیرات موزوں و رواں لگیں، اُنہیں جمع کیجیے اور اپنی عبارت میں اُن سے درستی پیدا کیجیے۔ یہ محض حافظے کی نہیں، ذوقِ عبارت کی تربیت تھی—اور یہی مشق سیکھنے والے کو صاحبِ قلم اور صاحبِ اسلوب بنا دیتی ہے۔
استشہاد میں اُن کی دیانت مثالی تھی۔ حوالہ اُن کے نزدیک محض صفحہ نمبر نہ تھا بلکہ امانت کی ادائیگی کا عنوان تھا: صحیح مقام، درست سیاق اور صرف بقدرِ ضرورت۔ درسگاہ میں بلند آواز سے قرأت کو وہ اعتماد کی تربیت سمجھتے تھے۔ طلبہ کے مسودات پر وہ اپنے ہاتھ سے اصلاح فرماتے؛ کہیں ایک لفظ بدل کر پورا مفہوم سیدھا کر دیتے، کہیں معمولی ردّ و بدل سے جملے میں تازہ سانس بھر دیتے۔
وقت دینے میں وہ سخاوت کے اُس معیار پر تھے جو اب کمیاب ہے۔ میں اکثر عشاء کے بعد اُن کے پاس بیٹھتا؛ کمرے میں ہوتے تو بسا اوقات خود چائے تیار کرتے اور اپنے ہاتھ سے پیش کرتے—یہ اُن کی دلآویز عادت تھی: سادگی میں شفقت، خدمت میں خلوص۔ انہی چھوٹی مجلسوں میں بڑی باتیں ہو جایا کرتی تھیں۔ سب سے پہلے وہ متن کی بنیاد درست کراتے—مقدمات کی ترتیب، سیاق کی درستی اور حوالے کی صحت—پھر زبانوں کے درمیان پل باندھنا اور بیان کی تراش خراش سے متعلق اضافے فرماتے۔ برطانیہ واپسی کے بعد برسوں میں اپنے مسودے انہیں بھیجتا رہا؛ وہ دو تین نشان لگا کر لوٹا دیتے، بات وہیں ختم، مگر عبارت میں نیا ربط اور قلم میں تازہ روانی آ جاتی۔
یہ ذوق کسی ایک فرد کی خاص دولت نہیں تھا؛ ندوہ کی علمی روایت میں زبان کا یہ شعور ایک قدیم اثاثہ ہے۔ میرے نانا ڈاکٹر اقبال احمد ندویؒ کہا کرتے تھے کہ مولانا ناظم صاحبؒ عربی ترجمے میں بے مثال مہارت رکھتے تھے، اور میرے چھوٹے نانا مولانا ضیاءالحسن ندویؒ نے مصر میں ایک موقع پر برجستہ انگریزی ترجمہ کیا تو حضرت مولانا علی میاںؒ نے بھرپور تحسین فرمائی — گویا روزِ اوّل سے ندوہ میں زبان کو محض اظہار کا وسیلہ نہیں، بلکہ فکر کی تشکیل کا ذریعہ سمجھا گیا۔ اسی لیے زبان کی صفائی دراصل فکر کی صفائی ہے، اور مولانا نذیر احمدؒ اسی میراث کو اپنے انداز سے تازگی بخشتے تھے۔
میری اُن سے آخری گفتگو بھی اسی محور پر رہی۔ میں نے عرض کیا کہ “نظامِ تعلیم” کو محض کتابوں کے نام سے کیوں پہچانا جاتا ہے؟ فرمایا: نصاب کا تازہ ہونا ضروری ہے، مگر نصاب زندہ تب بنتا ہے جب اس کے ساتھ روزمرہ کی مجلسیں، درست زبان اور امانت دار استشہاد جُڑ جائیں—یہی تین سانسیں ہیں جن سے تعلیم میں گہرائی پیدا ہوتی ہے۔
نصاب کی گفتگو بھی اسی ربط سے کھلتی ہے۔ ہمارے یہاں بحثِ تعلیم اکثر کتابوں کی فہرست اور امتحانی بندوبست تک محدود رہتی ہے، حالانکہ کسی درسگاہ کی اصل روح اُس داخلی فضا سے بنتی ہے جو استاد و شاگرد کی نشست سے لے کر راہداری تک پھیلی ہوتی ہے: سننے–بولنے کے آداب، اختلاف کی تہذیب، زبان کے استعمال میں احتیاط اور استشہاد میں دیانت۔ جہاں یہ فضا قائم ہو، وہاں کتاب بھی بولتی ہے اور سکوت بھی پڑھاتا ہے۔
مولانا کی مجلس میں یہی فضا سانس لیتی تھی۔ متن اُن کے سامنے محض معلومات کا مجموعہ نہیں رہتا تھا بلکہ گنجینہ فہم بن جاتا۔ وہ سکھاتے کہ کہاں ٹھہرنا ہے، کہاں ربط جوڑنا ہے اور کہاں معنی کو خود کھلنے دینا ہے۔ اُن کے نزدیک لفظ کا شیوہ خدمت ہے، حکومت نہیں—نمائش کے بجائے صفائیِ مفہوم اور اختصار پسندی۔
استاد و شاگرد کے تعلق میں وہ حدِ اعتدال کے پاسدار تھے۔ سوال مختصر، جواب بقدرِ ضرورت؛ اختلاف میں نرمی، دلیل میں پختگی؛ شاگرد کے سوال کی حرمت اور جواب کی ذمہ داری—یہ سب اُن کے ہاں طریقِ کار نہیں بلکہ طرزِ زیست تھا۔ یہی فضا نصاب کے مواد کو زندگی کا اثر بخشتی ہے، دوام عطا کرتی ہے اور تعلیم کو محض معلومات سے اُٹھا کر شعور کا حصہ بنا دیتی ہے۔
اختتام پر، مولانا نذیر احمد ندویؒ نے ہمیں یہ سبق دیا کہ علم کی زندگی نیت کی صفائی، حوالے کی امانت اور اسلوب کی دیانت سے بنتی ہے۔ نصاب تب ہی مشعل راہ بنتا ہے جب استاد کی مجلس میں اخلاق کی گرمی اور زبان کی شفافیت ساتھ ساتھ چلیں۔ ربِّ کریم اُن پر رحمتیں نازل فرمائے اور ہمارے مدارس میں ایسی علمی فضا ہمیشہ قائم رکھے۔ آمین۔




