الحمد لله رب العالمین، والصلاة والسلام علی سیدنا محمد خاتم النبیین، وعلی آله الطیبین، وأصحابه الغر المیامین، ومن تبعهم بإحسان إلی یوم الدین۔
یہ کتاب مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمہ اللہ کے انتقال کے بعد لکھی گئی ایک ذاتی مگر اصولی تحریر ہے۔ یہ نہ مکمل سوانح ہے، نہ تاریخ نویسی، نہ محض تعزیتی کلمات؛ بلکہ ایک سابق طالبِ علم کی طرف سے چند یادوں، مشاہدات اور دینی اسباق کو ادب و دیانت کے ساتھ محفوظ کرنے کی کوشش ہے۔
اس تحریر کا مقصد یہ ہے کہ جس خیر کو قریب سے دیکھا، اسے دعا اور شکر کے ساتھ یاد رکھا جائے؛ اور جہاں کسی اصولی پہلو سے دل میں تکلیف پیدا ہوئی، وہاں بات کو طعن، شور یا ردِ عمل کے بجائے احتیاط، عدل اور منہجِ اہلِ سنت کے دائرے میں سمجھا جائے۔
میرا تعلق مولانا رحمہ اللہ سے صرف ایک رسمی طالبِ علم کا نہیں تھا؛ اس میں دین کا رشتہ بھی تھا، علم کا استفادہ بھی،ندوۃ العلماء کی نسبت بھی، خاندانی تعلق بھی، اور پرانی قربتوں کی یاد بھی۔ اسی لیے اس تحریر میں جہاں محبت اور شکر کے ساتھ ان کی خوبیوں کا ذکر کیا گیا ہے، وہیںاصولی اختلاف کو بھی چھپایا نہیں گیا، اور آخر میں دل عافیت ہی کی دعا پر ٹھہر گیا ہے۔
ابتدا میں ارادہ ایک مختصر مضمون کی صورت میں مولانا رحمہ اللہ سے متعلق چند تاثرات، یادیں اور ان کی تعلیم و تربیت، علمی اسفار اور طلبہ سے تعلق کے بعض پہلو قلم بند کرنے کا تھا۔ ہمارے محترم کرم فرما مولانا سیف الہادی صاحب نے مشورہ دیا کہ محض شخصی تاثرات اور یادوں پر اکتفا نہ کیا جائے، بلکہ جن اصولی اور دینی مسائل کی طرف تحریر میں اشارہ آ رہا ہے، انہیں بھی مناسب تفصیل، متعلقہ واقعات، شواہد اور ضروری توضیحات کے ساتھ شامل کیا جائے، تاکہ اصل موقف پوری طرح واضح ہو سکے۔
چنانچہ یہ تحریر پہلے ایک مختصر مضمون کی صورت میں شروع ہوئی، پھر یادوں، مشاہدات، تعلیمی و تربیتی پہلوؤں اور طلبہ سے تعلق کے ذکر کے ساتھ اس کا دائرہ وسیع ہوتا گیا۔ بعد ازاں مولانا سیف الہادی صاحب کے مشورے کے مطابق اصولی مباحث، متعلقہ واقعات، شواہد اور توضیحات بھی شامل ہوتی گئیں، یہاں تک کہ یہ تحریر پہلے رسالے اور پھر کتاب کی صورت اختیار کر گئی۔
یہ بات بھی ابتداء ہی میں عرض کر دینا مناسب ہے کہ اس کتاب کی موجودہ صورت اگرچہ پھیل گئی ہے، لیکن اس کی بنیاد بہت کم وقت میں رکھی گئی۔ وفات کی خبر، احباب کا اصرار، اسفار و مصروفیات -ان سب کے درمیان پہلے چند صفحات تقریباً پانچ چھ دن کے مختصر وقفے میں قلم بند ہوئے؛ پھر یادیں، مشاہدات، بعض ضروری وضاحتیں اور اصولی مباحث شامل ہوتے گئے۔ اس لیے اسے کوئی آخری، مکمل یا مفصل سوانحی تحقیق نہ سمجھا جائے؛ یہ دراصل ایک فوری مگر محتاط، باادب اور دیانت دارانہ تأثر سے شروع ہونے والی تحریر ہے، جس میں خیر کو خیر کہنے اور اصولی اختلاف کو ادب کے ساتھ بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
اس موضوع کی حساسیت کا احساس ابتدا ہی سے تھا۔ بعض احباب نے خیر خواہی کے طور پر یہ اندیشہ بھی ظاہر کیا کہ یہ نہایت نازک موضوع ہے، اور اس پر لکھنے سے بعض حلقوں میں سخت ردِ عمل پیدا ہو سکتا ہے۔ میں نے ان کی خیر خواہی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا، مگر دل کو یہ اطمینان تھا کہ مقصود نہ کسی کی تحقیر ہے، نہ کسی نزاع کو ہوا دینا؛ بلکہ ایک مشکل دینی اور قلبی کیفیت کو عدل، ادب اور منہجِ اہلِ سنت کے دائرے میں بیان کرنا ہے۔ اسی اعتماد کے ساتھ یہ کام شروع کیا۔
اس کے باوجود یہ عرض کر دینا بھی مناسب ہے کہ چونکہ یہ تحریر مختلف مصروفیات اور اسفار کے درمیان مرتب ہوئی ہے، اس لیے کسی تعبیر، واقعے، حوالہ، ترتیب یا اسلوب کے بارے میں اگر کوئی قابلِ اصلاح بات اہلِ علم یا خیر خواہ احباب کے سامنے آئے تو راقم اسے شکر کے ساتھ قبول کرے گا۔ ان شاء اللہ آئندہ طباعت میں ایسی اصلاحات کو ملحوظ رکھا جائے گا؛ کیونکہ اس تحریر کا مقصد اپنی بات پر اصرار نہیں، بلکہ حق، دیانت، ادب اور عافیت کے ساتھ ایک نازک مسئلے کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش ہے۔
اسی مشورے کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ یہ تحریر صرف محاسن کے ذکر یا صرف اختلاف کی وضاحت تک محدود نہ رہے، بلکہ اس میں انصاف، توازن اور علمی دیانت کا منہج بھی واضح ہو۔ کسی شخصیت سے تعلق، استفادہ اور محبت اپنی جگہ؛ لیکن جب کسی صاحبِ اثر شخصیت کے علمی یا اصولی نظریات پر گفتگو ہو تو محاسن کے ساتھ ان مقامات کا ذکر بھی ضروری ہو جاتا ہے جہاں احتیاط یا اختلاف کی ضرورت ہو۔ قرآن کریم نے عدل کو صرف اجنبیوں کے معاملے میں لازم نہیں کیا، بلکہ اپنے نفس، والدین اور قریبی لوگوں کے بارے میں بھی حق بات کہنے کا حکم دیا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ (النساء:١٣٥)
”اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو، اللہ کے لیے گواہی دینے والے بنو، اگرچہ وہ گواہی خود تمہارے خلاف ہو، یا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے خلاف ہو۔“
اسی بنا پر اس کتاب میں کوشش یہ ہے کہ خیر کو خیر کے درجے میں رکھا جائے، غلطی کو غلطی کے درجے میں، اور قاری کے سامنے یہ اصول واضح رہے کہ تاریخی روایات اور علمی آراء کو ہمیشہ اپنے مناسب منہج اور میزان کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔
یہ بات بھی شاید صرف میری ذاتی کیفیت نہیں۔ مولانا رحمہ اللہ سے وابستہ بہت سے ندوی فضلاء، تلامذہ، متعلقین اور اہلِ علم ایسے ہوں گے جنہوں نے کسی زمانے میں ان سے واقعی استفادہ کیا، ان کے محاسن دیکھے، ان کی مجلسوں، اسفار اور علمی اثرات سے فائدہ اٹھایا، اور بعد کے برسوں میں بعض اصولی امور پر دل میں تکلیف بھی محسوس کی؛ مگر شاید ہر شخص کے لئے یہ طے کرنا مشکل ہو کہ اس کیفیت کو کیسے لکھا جائے، کس انداز میں بیان کیا جائے، اور لکھنے کے بعد اس کے کیا نتائج ہوں گے۔ اس تحریر میں یہی کوشش کی گئی ہے کہ اس مشترک دلی کیفیت کو بھی ایک محتاط، منصفانہ اور باادب زبان مل جائے: نہ سابقہ خیر کا انکار ہو، نہ بعد کی اصولی تکلیف کو چھپایا جائے۔
مولانا رحمہ اللہ کی شخصیت کے بعض تعلیمی، رفاہی، ادارہ جاتی اور خاندانی پہلوؤں کی طرف بھی اس تحریر میں مختصر اشارہ کیا گیا ہے؛ کیونکہ ان کا اثر صرف درس، تقریر، سفر اور علمی مجالس تک محدود نہیں تھا، بلکہ اداروں، دینی و سماجی کاموں، طلبہ، اہلِ خانہ اور اولاد کی تعلیم و تربیت کے دائرے میں بھی کسی نہ کسی صورت محسوس ہوتا تھا۔ البتہ یہ کتاب چونکہ مکمل سوانح یا تفصیلی خاندانی تعارف نہیں، اس لیے ان پہلوؤں کو صرف اتنی حد تک ذکر کیا گیا ہے جس حد تک وہ راقم کے مشاہدے، تعلق اور اس تحریر کے اصل مقصد سے متعلق ہیں۔
یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ اس کتاب میں ذکر ہونے والی باتیں ایک ہی درجے کی نہیں ہیں۔ بعض باتیں براہِ راست مشاہدات پر مبنی ہیں؛ بعض وہ ہیں جو اہلِ تعلق، خاندان یا معتبر احباب سے سننے میں آئیں؛ اور بعض مقامات پر ان مشاہدات و منقولات کی روشنی میں راقم نے اپنی اصولی رائے بیان کی ہے۔ ان تینوں دائروں کو خلط کرنا مناسب نہیں۔ جہاں بات مشاہدے کی ہے، اسے مشاہدہ سمجھا جائے؛ جہاں کسی معتبر نقل کا ذکر ہے، اسے نقل کے درجے میں رکھا جائے؛ اور جہاں اصولی تجزیہ ہے، وہاں اسے ایک طالب علم کی علمی فہم، دینی تشویش اور منہجِ اہلِ سنت کی روشنی میں کی گئی گفتگو کے طور پر پڑھا جائے۔
یہ بات بھی شروع ہی میں واضح رہنی چاہیے کہ اس کتاب میں مولانا رحمہ اللہ کی جن خوبیوں، علمی اسفار، وقت کی پابندی، تحریری ذوق، طلبہ پر شفقت، عربی یادداشتوں، علمی مجالس، تربیتی اثرات، ادارہ جاتی کوششوں اور خاندانی پہلوؤں کا ذکر آیا ہے، ان کا تعلق زیادہ تر اس سابقہ دور سے ہے جس میں یہ مباحث اور مشاجرات اس صورت میں سامنے نہیں آئے تھے جو بعد کے برسوں میں ظاہر ہوئے۔ خاص طور پر ۲۰۱۸-۲۰۱۹ء کے بعد جب انہوں نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں کھل کر ایسی باتیں کہنا شروع کیں جنہیں اہلِ سنت کے منہج، ادبِ صحابہ اور دینی غیرت کے ساتھ جمع کرنا ممکن نہ تھا، تو میرے دل میں فاصلے کی کیفیت بڑھتی چلی گئی۔ یہ میرے نزدیک کسی معمولی علمی اختلاف، تعبیر کے فرق یا تاریخی رائے کا مسئلہ نہیں تھا؛ بلکہ یہ ان مبارک نفوسِ قدسیہ کے احترام کا معاملہ تھا جن کے ذریعے قرآن و سنت امت تک پہنچے۔
ان کے بارے میں زبان کی بے احتیاطی صرف تاریخی بحث نہیں رہتی، بلکہ دین کی روایت، حدیث کے اعتماد اور امت کے علمی تسلسل پر اثر ڈالتی ہے۔ اس لیے اس کے بعد تعلق کی وہ سابقہ کیفیت باقی نہ رہ سکی؛ استفادے کی یادیں اپنی جگہ رہیں، مگر اصولی اعتماد مجروح ہو گیا، اور دل نے عافیت کے لیے فاصلہ اختیار کرنا ضروری سمجھا۔ اس لیے اس تحریر میں خیر کا ذکر بعد کے نظریات کی تائید نہیں، بلکہ اس سابقہ دور کے استفادے، مشاہدے اور تعلق کا منصفانہ ذکر ہے جو ان مشاجرات سے پہلے موجود تھا۔
اب یہ صفحات اسی کیفیت کے ساتھ پیش کیے جا رہے ہیں: نہ نزاع کو تازہ کرنے کے لیے، نہ مرحوم شخصیت کے محاسن کو مٹانے کے لیے، اور نہ کسی اصولی تکلیف کو چھپانے کے لیے؛ بلکہ اس نیت سے کہ خیر کو خیر سمجھ کر محفوظ رکھا جائے، غلطی سے سبق لیا جائے، اور پوری گفتگو ادب، انصاف اور عافیت کے دائرے میں رہے۔ ظاہر ہے کہ وفات کے موقع پر سب سے پہلی بات مرحوم کے لیے دعائے مغفرت، اہلِ خانہ اور متعلقین کے غم میں شرکت، اور زبان کو غیر ضروری تلخی سے بچانا ہے؛ یہی دینی اخلاق کا تقاضا ہے۔ البتہ اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ باقی رہتی ہے کہ علمی اور اصولی سوالات محض جذبات سے ختم نہیں ہو جاتے۔ ان کا صحیح مقام سنجیدہ، باادب اور محتاط علمی گفتگو ہے، جس میں نہ تعزیت کا ادب مجروح ہو، نہ اصولی بات پسِ پشت ڈالی جائے۔
میرے نزدیک اس پوری تحریر کا خلاصہ شاید اس ایک بات میں آ جاتا ہے کہ جس شخصیت سے تعلق دین، علم اور استفادے کی بنیاد پر قائم ہوا ہو، اس کے بارے میں انصاف کرنا بھی دین ہی کا تقاضا ہے۔ اللہ تعالیٰ مولانا رحمہ اللہ کی مغفرت فرمائے، ان کی نیکیوں کو قبول فرمائے، لغزشوں سے درگزر فرمائے، اور ہم سب کو حق کے ساتھ عدل، محبت کے ساتھ احتیاط، اختلاف کے ساتھ ادب، اور ہر حال میں عافیت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


زیرِ طبع کتاب: مولانا سید سلمان حسینی ندوی رحمہ اللہ — چند یادیں، مشاہدات، علمی تأثرات اور بعد کی آراء پر اصولی معروضات



