سید حذیفہ علی ندوی(کیمبرج، یو کے)

بعض خوش کن اور فرحت بخش خبریں محض خبر نہیں ہوتیں، بلکہ دلوں کے اندر ایک نئی حرارت اور ولولہ پیدا کر دیتی ہیں، اور قارئین کو اپنے آپ سے یہ سوال کرنے پر مجبور کرتی ہیں کہ کیا ہم نے تعلیم وتعلم کو واقعی اپنے لیے زندگی کا راستہ بنایا ہے، یا اسے صرف ایک مرحلہ سمجھ کر چھوڑ دیا ہے؟ ایسی ہی ایک نہایت مسرت انگیز اور حوصلہ افزا خبر یہ ہے کہ ماشاء اللہ جامعۃ الہدایہ، جے پور (راجستھان) کے نہایت محترم و مکرم ڈاکٹر عبد الخالق صاحب نے 66 برس کی عمر میں تکمیلِ افتاء کیا اور اس میں اوّل پوزیشن حاصل کی۔ اس کے بعد آپ کا تعارف بجا طور پر مفتی مولانا ڈاکٹر عبد الخالق صاحب کے نام سے ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اس مبارک جہد مسلسل کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اور اسے آپ کے لیے علم، عمل اور خدمت دین میں برکت و ترقی کا ذریعہ بنائے۔

یہ واقعہ اس لیے مزید قابلِ توجہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے گذشتہ سال ہی دارالعلوم وقف دیوبند سے عالمیت مکمل کی تھی، اور قبل ازیں دہلی میں حفظِ قرآن کی سعادت بھی حاصل کر چکے تھے۔ یوں مکمل حفظ قرآن ، پھر عالمیت کی تکمیل اور اخیر میں افتاء جیسے دقیق اور ذمہ دارانہ فن کی تکمیل، یہ سب ایک ایسے تسلسل کے ساتھ سامنے آتا ہے جو عصر حاضر میں شاذ ونادر نظر آتا ہے۔ خاص طور پر جب یہ تسلسل کسی ایسے شخص کی زندگی میں ہو جس نے برسوں ایک عملی میدان میں اپنے فرائض بھی نہایت سنجیدگی سے انجام دیے ہوں۔

ڈاکٹر عبد الخالق صاحب کا تعلق راجستھان کے ضلع ہنومان گڑھ سے ہے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں میں حاصل کی، اس کے بعد بیکانیر میں تعلیمی مراحل طے کیے۔ اللہ تعالیٰ نے طب کے میدان میں آپ کو غیر معمولی مہارت و مقبولیت عطا فرمائی، حتیٰ کہ آپ ہندوستان کے معروف سرجنوں میں شمار ہونے لگے۔ خود ڈاکٹر صاحب کے مطابق آپ نے دس ہزار سے زائد آپریشن کیے۔ یہ محض ایک عدد نہیں، یہ خاموش خدمتِ خلق کے ہزاروں مواقع ہیں، جو لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں مگر اللہ کے ہاں ان کی قدر و قیمت بہت بلند ہوتی ہے۔

لیکن اس پورے واقعے کا سب سے حسین پہلو یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے علمِ دین کو “اضافی” سمجھ کر زندگی کے کنارے پر نہیں رکھا، بلکہ اسے اپنی زندگی کے دل میں جگہ دی۔ منصب، مشغولیت، تجربہ اور عمر کے وقار کے باوجود انہوں نے طالبِ علمی کی ھیئت و صورت اختیار کی، اساتذہ کے سامنے زانوئے ادب بچھائے، محنت کے مراحل طے کیے، اور پھر اللہ تعالیٰ نے ایسے نتائج عطا فرمائے جو دوسروں کے لیے بھی ایک مہمیز اور روشن مثال بن گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ علم کے ساتھ اگر ادب نہ ہو تو علم کا اثر کم ہو جاتا ہے، اور اگر ادب ہو تو تھوڑا سا علم بھی دلوں میں جگہ بنا لیتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا علمي سفر اسی ادب کی زندہ مثال ہے۔


تصویر میں محترم مفتی ڈاکٹر عبد الخالق صاحب امیر جامعۃ الہدایہ، جے پور حضرت مولانا محمد فضل الرحیم مجددی صاحب اور شیخ يعقوب دہلوی المدنی صاحب کے ہمراہ بھی نظر آ رہے ہیں۔

یہاں ایک نہایت اہم نکتہ اور بھی ہے، جس کا تعلق جامعۃ الہدایہ میں رائج منہج دراسی(نصاب تعلیم )سے ہے۔ جامعۃ الہدایہ کی امتیازی پہچان یہ ہے کہ وہ طالبِ علم کو صرف کتابی فہم تک محدود نہیں رکھتی، بلکہ اسے ایسا باوقار، متوازن اور معاشرے کیلئے مفید انسان بنانے کی کوشش کرتی ہے جو دین کی روشنی کے ساتھ عملی زندگی کے تقاضوں کو بھی سمجھتا ہو۔ اس ادارے کا اصل مقصد یہی سمجھا جاتا ہے کہ علم میں پختگی اور انضباط ہو، فہم میں عمق و گہرائی ہو، مزاج میں شائستگی ہو، اور یہ ایک عمومی معیار ہے کہ انسان اپنی عملی زندگی میں کسی بھی انحراف یا ذھنی اضطراب کا شکار نہ ہو، بلکہ دنیوی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ دین سے بھی نسبت قائم رکھے اور وہ خلقِ خدا کے لیے فائدہ مند بنے۔

ڈاکٹر عبد الخالق صاحب کی کامیابی جامعۃ الہدایہ کے اسی مزاج کی ایک روشن تصویر ہے۔ ایک طرف طب جیسے نازک اور حساس میدان میں طویل تجربہ، دوسری طرف حفظ، عالمیت اور افتاء جیسے مراحل کی تکمیل۔ ان تمام اختصاصات اور اوصاف کا یکجا ہونا ڈاکٹر صاحب کی اپنی مقصدیت، نظم اور استقامت کی روشن دلیل ہے۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جامعۃ الہدایہ نے اپنے منہج اور تربیتی ماحول کے ذریعے انہیں وہ علمی فضا فراہم کی جس میں یہ صلاحیتیں مزید نکھر کر سامنے آئیں؛ یوں علم زندگی سے کٹتا نہیں بلکہ زندگی کے اندر اتر کر اس کی سمت درست کرتا ہے۔ اور افتاء کے باب میں تو یہ حقیقت اور نمایاں ہو جاتی ہے، کیونکہ فتویٰ محض فقہی عبارتیں پڑھنے اور نقل کرنے کا نام نہیں، بلکہ فتویٰ ایک علمی ذمہ داری ہے، اور دینی امانت ہے، اور بندگانِ خدا کی حقیقی صورتِ حال سمجھ کر اللہ کے حکم کی روشنی میں درست راہ دکھانے کا نام ہے۔ جب علمی تربیت کے ساتھ زندگی کا تجربہ بھی شامل ہو جائے تو بات میں وزن اور وثوق پیدا ہوتا ہے، نظر میں گہرائی پیدا ہو جاتی ہے، اور رہنمائی میں حکمت جھلکتی ہے۔

یہ واقعہ جامعۃ الہدایہ کے طلبہ کے لیے بھی ایک خاموش مگر طاقتور پیغام ہے کہ اگر نیت صاف ہو تو راستے خود بخود بنتے ہیں، اگر لگن ہو تو کم وقت میں بھی برکت ہوجاتی ہے، اور اگر ادب ہو تو علم میں نور اترتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جس بندے سے خیر کا ارادہ فرماتے ہیں، اسے سیکھنے کی توفیق دیتے ہیں، اور پھر اس کی کوشش کو ایسی قبولیت عطا فرماتے ہیں کہ وہ خود بھی دوسروں کے لیے مثال بن جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ اساتذہ کی برکتیں قائم رکھے، جامعۃ الہدایہ کی علمی و تربیتی فضا کو مزید قوت عطا فرمائے، اور ڈاکٹر صاحب کے علم، خدمت اور اخلاص میں مزید اضافہ فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ان سے کثیر خلق کو نفع دے، اور ہمیں بھی سچی طلب، ادبِ علم، اور استقامت کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

🎥 ویڈیو: کانووکیشن میں محترم مفتی ڈاکٹر عبد الخالق صاحب ڈگری وصول کرتے ہوئے 👇

7 thoughts on “علم دین اور انسانیت کی خدمت : جامعة الهداية کے منھج کا درخشاں پہلو”

      1. آفتاب عالم سیتاپوری

        اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کو قبولیت سے نوازے آمین

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top