سید حذیفہ علی ندوی(کیمبرج، یو کے)

گزشتہ روز میں نے حالیہ عوامی مکالمے پر انگریزی میں کچھ تاثرات قلم بند کیے تھے۔ الحمد للہ، ہزاروں لوگوں نے اس تحریر کو پڑھا، اور متعدد حضرات نے اپنے سوالات اور تاثرات بھی مجھے ارسال کیے۔ اس کی وجہ نہ كسی خودنمائی کا شوق تھا، نہ کسی “تماشے” کی بلاوجہ تائید؛ بلکہ مغرب میں میرے بعض طلبہ اور چند قریبی احباب جو جامعات اور علمی و عملی میدان میں رہتے ہیں، اس مکالمے کو سوشل میڈیا اور عام میڈیا میں گردش کرتے دیکھ رہے تھے، اور ان کے سوال بڑے سادہ مگر بڑے معنی خیز تھے: اصل بات کیا ہوئی، فضا کیسی تھی۔ اسی اصرار پر میں نے انگریزی میں لکھا، اور سچ یہ ہے کہ اُردو میں لکھنے کا ارادہ نہیں تھا، اس لیے کہ اُردو میں اس نوع کے مباحث پر پہلے سے بہت کچھ آ چکا ہے۔

پھر چند احباب نے مجھے استاذِ محترم ڈاکٹر محمد اکرم ندوی صاحب کا مضمون ” لگام میری ہے” بھیجا، اور ساتھ یہ گزارش بھی کی کہ اس کے بعض نکات پر کوئی متوازن گفتگو سامنے آ جائے، کیونکہ بعض لوگوں کے نزدیک ان کے تجزیے نے اس مکالمے کو اُن مناظروں پر قیاس کر دیا ہے جن سے ہم برسوں سے اُکتا چکے ہیں۔ میں نے سوچا کہ سرسری تبصرے کے بجائے بہتر یہ ہے کہ اپنی وہی انگریزی تحریر، جس میں واقعے کا سیاق، اس کا دائرۂ اثر، اور دعوتی پہلو نسبتاً کھل کر آ گئے تھے، اُردو میں بھی پیش کر دوں، اور بات ردِّ عمل کی سطح پر نہ رہے بلکہ فہم کی درستی کا ذریعہ بنے۔

استاذِ محترم کے مضمون میں خیرخواہی کی روشنی بھی ہے اور اصولی تنبیہ کی متانت بھی، مگر بعض جملوں نے ایسے سوالات جگائے کہ خاموش رہنا مناسب نہ رہا۔ خاص طور پر یہ فقرہ، جسے میں بعینہ نقل کر رہا ہوں، بہت سے اہلِ نظر کےلیے محلِ توقف بنا۔


دعوتی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ مناظرہ نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔ اس مناظرے نے ملحدین کے ذہنوں میں یہ تاثر قائم کر دیا کہ علماء کا طبقہ کم علم، غیر مہذب اور غیر منظم ہے۔

اسی کے ساتھ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ کامیابی پر جشن بعض اوقات فاصلے بڑھا دیتا ہے، اور دعوت کی کامیابی “مناظرہ جیتنے” میں نہیں، “دل جیتنے” میں ہے۔ اصول اپنی جگہ درست، بلکہ لازم ہیں۔ مگر یہاں سوال اصول کا نہیں، اس اصول کے اطلاق کا ہے۔ میں نے پورا مکالمہ دیکھا، پھر اس کے بعد مختلف جہات سے آنے والے تاثرات کو بھی دیکھا، تو محسوس ہوا کہ اس نشست کو اس قطعیت کے ساتھ پڑھنا، تصویر کے کئی اہم رخ نظروں سے اوجھل کر دیتا ہے۔ اسی لیے میں نے سوچا کہ اگر کچھ لکھا جائے تو اس انداز سے لکھا جائے کہ وہ محض “جواب” نہ لگے، بلکہ واقعے کی تفہیم اور دعوتی رہنمائی کا حصہ بن جائے۔

یہ مکالمہ محض ایک نشست یا سوشل میڈیا کلپ نہیں رہا، بلکہ اس پر مختلف پلیٹ فارمز اور ادارتی حلقوں میں بھی گفتگو ہوئی۔ (دی آبزرور پوسٹ، ۲۲ دسمبر ۲۰۲۵) (اے بی پی لائیو، ۲۱ تا ۲۲ دسمبر ۲۰۲۵) (دی کوئنٹ، ۲۳ دسمبر ۲۰۲۵) بعض جگہ اسے ایک نادر مثال کے طور پر دیکھا گیا کہ شدید اختلاف کے باوجود بات “بازاری شور” میں نہیں اتری، اور گفتگو نسبتاً دلیل، ضبط اور وقار کے ساتھ آگے بڑھی۔ (دی کوئنٹ، ۲۳ دسمبر ۲۰۲۵) اسی بنا پر یہ بحث “جیت ہار” سے زیادہ اس سوال کی طرف لے جاتی ہے کہ آج کے عوامی میدان میں دینی گفتگو کس طرح شائستگی اور سنجیدگی کے ساتھ سنی اور سمجھی جا سکتی ہے۔ (اے بی پی لائیو، ۲۱ تا ۲۲ دسمبر ۲۰۲۵) مزید یہ کہ یوٹیوب پر اس مکالمے کے مختلف اپ لوڈز کو ملا کر مجموعی طور پر ۱۵ ملین سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔ (دی آبزرور پوسٹ، ۲۲ دسمبر ۲۰۲۵)


مکالمے کا مزاج اور افادیت کا معیار


مناظرہ حق و باطل کا آخری معیار نہیں، اور دعوت کا مقصود یہ نہیں کہ مخالف کو نیچا دکھا کر خاموش کرا دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ حق کے لیے دلوں میں راستہ کھلے۔ مگر میری ناقص رائے میں اس مخصوص نشست کا مجموعی مزاج وہ نہیں تھا جس کے نتیجے میں لازماً یہ تاثر قائم ہو کہ اہلِ علم ”کم علم، غیر مہذب اور غیر منظم“ ہیں۔

یہ مکالمہ اپنی گرمجوشی کے باوجود بازاری شور میں نہیں اترا۔ بات محض داد و تحسین کے سہارے آگے نہیں بڑھی، نہ ہجوم کے ہیجان نے اسے محض ایک کھیل بنا دیا۔ بلکہ مناظرے کے بعد جو عمومی ردِّ عمل سامنے آیا، اس میں ایک بڑی جہت یہ بھی تھی کہ بہت سے لوگوں نے کم از کم اتنا ضرور محسوس کیا کہ دینی گفتگو، اگر وقار اور ترتیب کے ساتھ رکھی جائے، تو عوامی میدان میں بھی اپنا وزن قائم رکھ سکتی ہے۔ اسی لیے ” ملحدین کے ذہن میں یہ تاثر قائم ہو گیا“ جیسے جملے میں ایک طرح کی تعمیم اور قطعیت
محسوس ہوتی ہے، جبکہ حقیقت اس سے زیادہ باریک اور ہمہ پہلو ہے۔

مجھ پر آکسفورڈ و کیمبرج کے طالب علمی کے ایّام میں یہ فرق خوب واضح ہوا کہ یہاں کا “مناظرہ” برصغیر کے مناظرہ کلچر سے زیادہ ایک سنجیدہ علمی مذاکرہ ہے؛ اختلاف کے باوجود گفتگو کا دروازہ کھلا رہتا ہے، اور کبھی اختلاف ہی پر باہمی اتفاق (agree to disagree) بھی ہو جاتا ہے۔

مناظرانہ فضا میں ایک خطرہ یہ بھی رہتا ہے کہ گفتگو “تفہیم” کے بجائے “فریق” پیدا کرنے لگتی ہے؛ اور حق کے بجائے غلبے کی نفسیات غالب آ جائے تو دعوت کا مقصود پیچھے رہ جاتا ہے۔

پھر “افادیت” کے معیار پر بھی ٹھہر کر سوچنا چاہیے: کیا فائدہ صرف یہی ہے کہ مخاطب اسی لمحے اپنا موقف بدل دے؟ اگر یہ معیار بنا لیا جائے تو دنیا کی اکثر سنجیدہ بحثیں بے معنی ٹھہریں گی۔ سیاست کے طویل تجزیے، میڈیا کے مناقشے، ادبی مباحث، روزانہ کی فکری بحثیں، کتنی چیزیں فوراً کسی کو بدل دیتی ہیں؟ ہر گز نہیں، تاہم وہ ذہن بناتی ہیں، فضا ہموار کرتی ہیں، اور بیانیہ مرتب کرتی ہیں۔ باطل اگر اپنے بیانیے کی تعمیر میں مستقل سرگرم رہے، تو حق کے لیے بھی لازم ہے کہ کبھی کبھار ایک شائستہ، مہذب اور مدلل انداز میں پیش کیاجائے، خصوصاً اُن “خاموش ناظرین” کے لیے جو سوالات کے جنگل میں حق کے متلاشی ہیں، اور کسی نامور شہرت یافتہ شخصیت کے رعب سے دین کو کمزور سمجھنے لگتے ہیں۔

قرآنِ کریم نے خود انبیاء علیہم السلام اور منکرین کے درمیان مکالمات نقل کیے ہیں۔ وہاں بھی ہر مکالمہ فوراً “تبدیلیِ مذہب” پر ختم نہیں ہوتا، مگر حق واضح ہوتا ہے اور اہلِ سماعت کے سامنے راستہ روشن ہو جاتا ہے۔ اسی معنی میں اس مکالمے کا اثر بھی اُن لوگوں تک جاتا ہے جو اسٹیج پر نہیں تھے، مگر اسٹیج کی آواز کے پیچھے اپنی زندگی کے سوالات لیے بیٹھے تھے۔


عوامی میدان میں دین کی آواز اور اس مکالمے کی معنویت


یہ نشست مفتی شمائل ندوی صاحب اور جناب جاوید اختر صاحب کے درمیان تھی۔ موضوعات وہی بنیادی سوالات تھے جو جدید ذہن بار بار اٹھاتا ہے: خدا کا وجود، زندگی کا مقصد، دکھ اور شر کا مسئلہ، وحی کی ضرورت، اور یہ کہ کیا مذہب، خصوصاً اسلام، جدید انسان کے سامنے علمی وقار اور انسانی ہمدردی کے ساتھ کھڑا ہو سکتا ہے یا نہیں؟

یہاں صرف” کیا کہا گیا” نہیں، “کس فضا میں کہا گیا” بھی اہم تھا۔ جناب جاوید اختر صاحب محض رائے رکھنے والے نہیں، وہ برصغیر کے مرکزی ثقافتی دائرے میں ایک بڑا نام ہیں۔ مذہب کے باب میں ان کا انداز بہت سے حلقوں میں ایک “پالش شدہ شکوک” کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے، اور لوگ انہیں حاضر جوابی اور لفظی چابک دستی کے سبب ایک طاقتور آواز بھی تصور کرتے ہیں۔ ایسے شخص کے سامنے ایک مدرسہ کے تربیت یافتہ عالم کا بیٹھنا، عوامی ذہن کے سامنے ایک علامتی سوال بھی بن جاتا ہے کہ کیا دین کی گفتگو اس کمرے میں بھی باوقار رہ سکتی ہے یا نہیں۔

پھر یہ مکالمہ کسی محدود مذہبی حلقے میں نہیں ہوا۔ اسے للن ٹاپ جیسے بڑے پلیٹ فارم نے نشر کیا، اور نظامت سوربھ دویویدی نے کی، جن کے پروگرام مختلف نظریات کے لوگ دیکھتے ہیں۔ اس پس منظر میں یہ گفتگو ایک عام کمرے سے نکل کر قومی میڈیا کے اُس ہجوم میں جا پہنچی جہاں بہت سے لوگ اسلام کو خبروں کی سرخیوں، تعصبات یا یک رخے بیانیوں سے جانتے ہیں۔ ہندوستان کے موجودہ ماحول میں، جہاں مسلمان اکثر محسوس کرتے ہیں کہ عوامی فضا کشیدہ اور نامساعد ہے، وہاں ایک دینی آواز کا سنجیدگی سے سنا جانا خود اپنی جگہ معنی رکھتا ہے۔

مفتی کی حیثیت بھی یہاں سمجھنے کی چیز ہے۔ “مفتی” محض مقرر نہیں ہوتا، وہ ایک علمی روایت کی نمائندگی ہے۔ اس کے لہجے میں ذمہ داری، نصوص کی حرمت، اخلاقی مزاج، انسانی رویوں اور حالات حاضرہ کی سمجھ شامل ہوتی ہے۔ جب ایسا شخص عوامی اسٹیج پر بیٹھتا ہے تو وہ اپنے ساتھ ایک پورا علمی سرمایہ اور ایک اخلاقی معیار بھی لے آتا ہے۔ اسی لیے یہ نشست تفریح نہیں تھی، اور اسے تفریح بنا دینا دعوت کے مقصد کے خلاف ہے۔

میرے لیے اس میں ایک ذاتی پہلو بھی تھا۔ میں مفتی شمائل ندوی صاحب كو دارالعلوم ندوۃ العلماء کے ماحولِ طالبِ علمی سے جانتا ہوں؛ اُن دنوں میں میں تخصص فی الحدیث کر رہا تھا، اور حجاز کے محدثِ جلیل، علامہ محمد عابد السندي الانصاريؒ (وفات: 1841ء) پر اپنی تحقیق میں مصروف تھا؛ اکثر ان سے شِبلی کتب خانے میں ملاقات ہو جاتی تھی اور وہ اُن دنوں میرے بعد کے درجوں کے طالبِ علم تھے۔ میں وہاں ایک زمانے میں مؤذن بھی رہا اور بعض نمازوں کی امامت بھی کی، اس حیثیت سے طلبہ سے غیر رسمی ملاقاتیں رہتی ہیں۔ جب آپ کسی شخص کو طالب علمی کے ماحول میں دیکھ چکے ہوں تو پھر عوامی اسٹیج کے دباؤ کا وزن زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ اسی لیے میں نے ایک طرح کی راحت محسوس کی کہ آج کے زمانے میں کوئی دینی آدمی ایسے سخت عوامی میدان میں قدم رکھ کر بات رکھ رہا ہے، اور کم از کم وقار کے ساتھ رکھ رہا ہے۔

مدارس کے حوالے سے بھی یہ لمحہ قابل فخر اور تاریخی تھا۔ گزشتہ برسوں میں مدارس کا ذکر کئی مرتبہ ایسے تنازعات اور سطحی کلپس کے ساتھ آیا جنہوں نے عوامی تاثر کو نقصان پہنچایا۔ ایسے ماحول میں اگر ایک دینی آواز بڑے پلیٹ فارم پر بغیر جذبات میں بہے پروقار انداز میں ابھرتی ہے ، جس میں نہ معذرت کا اظہار تھا نہ تعلی کا شائبہ بلکہ دین کی بات ایسے مہذب اور متوازن انداز میں رکھتی ہے، جو دینی روایت کی علمی حیثیت کو عوامی نظر میں دوبارہ زیادہ معتبر اور معیاری بناتی ہے۔

زبان کے باب میں بھی ایک لطیف نکتہ ہے۔ جہاں مناسب ہوا، انگریزی کے چند جملوں کا استعمال میرے نزدیک کمزوری نہیں تھا، بلکہ اس سماعت تک پہنچنے کا ایک ذریعہ تھا جس میں قابلیت کا ظاہری معیار زبان کے ترازو میں پرکھا جاتا ہے۔ دین کا پیغام اگر مخاطب تک پہنچتا ہے تو زبان ایک ذریعہ رہ جاتی ہے، مقصد نہیں۔

اس نشست میں ایک اور قابلِ توجہ کمال یہ بھی تھا کہ جن نکات کا تعلق فلسفہ، فکر اور کلامی مباحث سے ہے، انہیں مفتی شمائل ندوی صاحب نے ایسے اسلوب میں پیش کیا کہ بات علمی بھی رہی اور عام فہم بھی۔ اس میں دارالعلوم ندوۃ العلماء کی وہ تربیت بھی شامل ہے جو طالبِ علم کو عبارت کی درستی کے ساتھ مخاطب کے مزاج اور سطح کا لحاظ بھی سکھاتی ہے۔ اور اس ضمن میں مجھے اپنے والدِ محترم مولانا سید نعیم اختر ندوی (رحمہ اللہ علیہ) کی ایک بات یاد آتی ہے، جو وہ بار بار فرمایا کرتے تھے کہ آج سب سے بڑی ضرورت یہی توازن ہے؛ اس لیے کہ جب اہلِ علم کی زبان اور عوام کی زبان میں فاصلہ بڑھ جائے تو گفتگو محض “ابلاغ” نہیں رہتی، بلکہ ایک داخلی حلقے کی باہمی گفت و شنید بن کر رہ جاتی ہے۔ دینی خطاب نہ اتنا خشک ہو کہ سامع کے لیے وہ صرف اصطلاحات کا بوجھ بن جائے، اور نہ اتنا سطحی کہ حقائق کی گہرائی ہی ضائع ہو جائے۔ اس مکالمے میں یہ توازن بڑی حد تک قائم رہا۔

اور میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ جناب جاوید اختر صاحب مکمل طور پر اپنی پر سکون حالت میں نہیں تھے۔ وہ تجربہ کار اور میڈیا کی پسندیدہ شخصیت رہے ہیں؛ اگر پھر بھی بعض جگہ توقف اور احتیاط دکھائی دی تو اس سے کم از کم یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اس طرح کی گفتگو میں مذھب کو ہدفِ تنقید بنانا آسان نہیں ہے۔

اس سب کے ساتھ انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ جناب جاوید اختر صاحب سے اختلاف ہو تو ہو، مگر زبان کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے۔ وہ ادب و فن کے آدمی ہیں، اور اس اعتبار سے گفتگو میں شائستگی اور متانت کی اھمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ انصاف یہ ہے کہ جناب جاوید اختر صاحب کے بارے میں ایک بات کھل کر کہی جائے: جس عمر میں اکثر لوگ اپنے موقف کو حرفِ آخر سمجھ کر سکون سے بیٹھ جاتے ہیں، اس عمر میں ایک بڑے عوامی پلیٹ فارم پر آ کر مذہب کے بنیادی سوالات پر گفتگو کے لیے آمادہ ہونا خود اپنے اندر ایک حوصلہ مندانہ اور امید افزا قدم ہے۔ اختلاف اپنی جگہ، مگر اس” آمادگیٔ مکالمہ” کی قدر کی جانی چاہیے، کیونکہ دعوت کے لیے پہلی شرط یہی ہے کہ بات سننے اور سمجھنے کا دروازہ بند نہ ہو۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے لوگ اگر مکالمے کے دروازے پر بیٹھ جائیں تو یہ بذاتِ خود ایک امکان کی علامت ہے۔ جہاں مکالمہ بند ہو، وہاں ہدایت کے امکانات بھی دور محسوس ہوتے ہیں۔


شمائلِ دعوت: لہجہ اور “کل“ کی فکر


یہاں اصل سوال یہی ہے کہ ہم اس نوعیت کے مکالمات کو کیسے پڑھیں۔ نہ اسے فتح نامہ بنائیں، نہ شکست نامہ۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ اگر جناب جاوید اختر صاحب خود یہ تحریر پڑھیں تو انہیں محسوس نہ ہو کہ ان کے ساتھ تضحیک یا دشنام طرازی کی گئی ہے۔ اس لیے نہیں کہ حق کو کمزور کرنا ہے، بلکہ اس لیے کہ حق کا وزن تب بڑھتا ہے جب وہ وقار اور حکمت کے ساتھ پیش ہو۔ دعوت میں لہجہ محض زیبائش نہیں، خود دعوت کی روح ہے۔ اس مکالمے نے یہ بھی یاد دلایا کہ دعوت کا اصل میدان دل ہے؛ اگر لہجہ سنبھلا ہوا رہے تو اختلاف بھی خیر کا دروازہ بن جاتا ہے، اور اگر مزاج محض غلبے کی طرف مڑ جائے تو بات کی تاثیر کم ہو جاتی ہے۔

اسی ضمن میں ایک بات اور نمایاں ہوئی کہ جناب جاوید اختر صاحب نے اپنی زندگی کے بعض سخت نشیب و فراز کا ذکر کیا، اور بعد میں مفتی یاسر ندیم الواجدی صاحب کے ذریعے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ انہوں نے اپنی ابتدائی عمر کی سختیوں کی طرف خاص اشارہ کیا کہ بچپن میں آٹھ برس کی عمر سے انہیں زندگی کے تلخ تجربات کا سامنا رہا۔ دعوت کے مزاج میں یہ شامل ہے کہ ہم دلیل کے ساتھ انسان کے دکھ کو بھی سمجھیں۔ اکثر اوقات خدا سے دوری محض کتابی بحثوں سے نہیں بنتی؛ اس کے پیچھے تجربات، زخم، شکستہ امیدیں، یا مذہب کے نام پر دیکھی ہوئی بدعملیاں بھی ہوتی ہیں۔ اختلاف اپنی جگہ، مگر انسانی پہلو کو سمجھنا اور گفتگو کے دروازے کو کھلا رکھنا بھی اپنی جگہ ایک خیر ہے۔

لیکن یہاں ایک بنیادی سوال بھی قائم رہتا ہے، جسے اسلام نہایت سادگی اور قوت کے ساتھ واضح کرتا ہے: اگر کسی نے دکھ اٹھائے، اگر کسی پر ناانصافی ہوئی، تو کیا لازماً اسی دنیا میں اس کا پورا بدلہ مل جانا چاہیے؟ اگر نہیں ملتا تو کیا یہ انصاف کے منافی ہے؟ اسلام کہتا ہے: یہ دنیا آخری عدالت نہیں۔ آخرت کا عقیدہ اسی لیے ہے کہ مظلوم کی فریاد ضائع نہ ہو، اور ہر دکھ، ہر آنسو، ہر ضائع ہوتی امید کا حساب ایک کامل عدل کے نظام میں ہو۔ جدید ذہن کی ایک بڑی لغزش یہ ہے کہ وہ مکمل عدالت اسی مختصر دنیا میں چاہتا ہے، جبکہ اسلام کہتا ہے کہ کامل عدالت تب قائم ہوتی ہے جب زندگی کا پردہ گرتا ہے۔

موت کو سمجھا ہے غافل اختتام زندگی—- ہے یہ شام زندگی ، صبح دوام زندگی

یہی بات جب غزہ کے مناظر کے سامنے رکھی جاتی ہے تو سوال مزید گہرا ہو جاتا ہے۔ ظلم، بچوں کی شہادت، بے بسی، یہ سب صرف فلسفے کے سوال نہیں، دل کے سوال ہیں۔ آدمی گویا پوچھتا ہے: اس دکھ میں خدا کہاں ہے، اور میرے سینے میں جو آگ ہے، میں اس کے ساتھ کیا کروں؟ اسلام کا جواب ایک نعرہ نہیں، ایک تصورِ حیات ہے۔ کچھ شر انسان کے اختیار کا نتیجہ ہے، ظلم ظالم کی ذمہ داری ہے۔ اور اگر زندگی یہی سب کچھ ہو تو انصاف بے معنی ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر آخرت حق ہے تو ظلم کا حساب بھی ہے، مظلوم کی تلافی بھی، اور عدل انجام بھی۔

غزہ ایک اور رخ بھی دکھاتا ہے جو بہت سے شکوک رکھنے والے لوگ سمجھ نہیں پاتے: آزمائش میں ایمان کا بڑھ جانا۔ گھر اجڑ گئے، خاندان مٹ گئے، پھر بھی زبان پر” الحمد للہ” ہے، نماز ہے، آخرت کی امید ہے۔ یہ سوال طنز کے لیے نہیں، غور کے لیے ہے کہ اگر مصائب ایمان کو لازماً متزلزل کر دیتے ہیں تو اتنے بڑے دکھ میں ایمان کیوں تازہ ہو رہا ہے؟ اور اگر نسبتاً کم تکلیفیں کسی کو خدا کے انکار تک لے جائیں تو کیا مسئلہ صرف دلیل کا ہے، یا دل کی طمانیت اور اللہ سے تعلق کا بھی؟ ایمان محض ذہنی عمل نہیں، اللہ کے ساتھ تعلق کا نام ہے۔ کبھی اللہ آزمائش کے ذریعے دل کو پاک کرتا ہے، کبھی دکھ کے اندر ایسی روشنی دے دیتا ہے جو آسائش میں نصیب نہیں ہوتی۔

پھر دعوت کے باب میں ابلاغ کا ہنر بھی اپنی جگہ حقیقت ہے۔ علم اور اخلاص بنیادی شرطیں ہیں، مگر عوامی گفتگو میں تہذیب، طرز کلام، اختلاف میں نرمی، اور سامع کی سطح کو سامنے رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ آج بہت سے لوگوں کی اسلام سے پہلی ملاقات اسی عوامی کمرے میں ہوتی ہے۔ اسی لیے حکمتِ گفتار اب دعوت کے لوازم میں شامل ہے۔

یہاں نیت کا باب سب سے فیصلہ کن ہے۔ آدمی اسلام کا دفاع کرتے ہوئے بھی اس کے اجر سے محروم ھو سکتا ہے اگر مقصد اپنی ذات ہو جائے۔ آدمی دلائل جیت کر بھی ادب ہار سکتا ہے۔ آدمی مخالف کو نیچا دکھا کر دعوت کا دروازہ بند کر سکتا ہے۔ اس لیے سوال صرف یہ نہیں کہ ہم نے جواب دیا یا نہیں، سوال یہ ہے کہ ہم نے کیسے دیا، اور کیوں دیا۔ اگر مقصد دعوت ہے تو مقصد کسی انسان کو نیچا دکھانا نہیں، اس کے اور اس کے رب کے درمیان رکاوٹیں کم کرنا ہے۔ مقصد کسی شخص کو “ہرانا” نہیں، مقصد راستہ کھولنا ہے۔

اسی سلسلے میں قرآنِ کریم کی دو آیات، دل کو سیدھا کرنے کے لیے، خاموشی سے سامنے آ جاتی ہیں:

أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ
کیا تم نے گمان کیا کہ ہم نے تمہیں بے مقصد پیدا کیا اور تم ہماری طرف لوٹائے نہ جاؤ گے؟

(المؤمنون: 115)

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو، اور ہر جان دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا بھیجا ہے۔

(الحشر: 18)

یہ آیات صرف مسلمانوں سے نہیں، انسان سے سوال کرتی ہیں۔ ایک عمر کے بعد “مستقبل” کا سوال زیادہ تیز ہو جاتا ہے۔ کبھی کبھی سب سے بڑی رکاوٹ دلیل نہیں ہوتی، سماجی دباؤ اور ماضی کی عادتیں ہوتی ہیں۔

اگر جاوید اختر صاحب کبھی الحاد کے بارے میں ذرا سا بھی تردد محسوس کریں تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہدایت کے لیے کسی نمائش کی ضرورت نہیں۔ آدمی حق کو تنہائی میں بھی قبول کر سکتا ہے۔ البتہ اسلام میں داخلہ کلمۂ شہادت کے ساتھ ہوتا ہے، جو زبان سے سچائی کے ساتھ ادا کیا جائے اور دل سے اس کی تصدیق کی جائے۔ اسے دنیا کے سامنے اعلان کرنے، یا کیمروں کے لیے کوئی مظاہرہ کرنے کی حاجت نہیں۔ اسے بس اپنے خالق کے سامنے سچّا ہونا ہے۔ یہی نجات ہے۔

ایک پہلو اور بھی ہے جو ہمیں اپنے بارے میں نرم اور خوف زدہ کر دیتا ہے۔ جناب جاوید اختر صاحب کے بارے میں یہ بات عمومی طور پر ذکر ہوتی ہے کہ ان کے خاندانی پس منظر میں اردو علمی روایت کے بعض نام آتے ہیں، اور علامہ فضلِ حق خیرآبادی کا نسبی حوالہ (جو کہ اصلاً دور کا ہے) بھی لوگوں کی زبان پر رہتا ہے۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ 1857ء کے بعد انگریز حکومت نے علامہ فضلِ حق خیرآبادی کو جزائرِ انڈمان (کالا پانی) کی سزا دے کر جلا وطن کیا، اور وہیں اسیری کے عالم میں ان کا انتقال ہوا۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ نہ ایمان نسب سے خود بخود محفوظ رہتا ہے، نہ انکار محض جہالت سے بنتا ہے۔ اسی لیے انسان اپنی اولاد اور اپنے انجام کے بارے میں بھی غفلت میں نہیں رہ سکتا۔ قرآن وہ منظر دکھاتا ہے جب حضرت یعقوب علیہ السلام اپنی اولاد سے آخری سوال کرتے ہیں:

أَمْ كُنتُمْ شُهَدَاءَ إِذْ حَضَرَ يَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِيهِ مَا تَعْبُدُونَ مِنْ بَعْدِي
کیا تم حاضر تھے جب یعقوب کو موت آئی، جب انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا: میرے بعد تم کس کی عبادت کرو گے؟

(البقرہ: 133)

اور اسی کے ساتھ یہ نشست ایک امتحان بھی بن گئی: مفتی شمائل ندوی صاحب کے لیے کہ ایسے کڑے عوامی میدان میں وہ لہجہ کیسے قائم رکھتے ہیں، اختلاف کو انسانیت کے دائرے میں کیسے رکھتے ہیں، اور دعوت کو “اثر” کے ساتھ کیسے نبھاتے ہیں؛ اور پھر ہمارے دوسرے اہلِ علم، خطباء، اور عام مسلمانوں کے لیے کہ کیا ہم اس قدم سے سبق لے کر اپنی تیاری، اپنے طرزِ گفتگو اور اپنے اخلاقی معیار کو بلند کرتے ہیں، یا اسے محض ایک واقعہ سمجھ کر گزر جاتے ہیں۔ بعض اوقات سب سے بڑی کامیابی یہی ہوتی ہے کہ کوئی شخص “ممکن” کو “واقع” بنا دے، پھر وہ واقعہ دوسروں کے لیے معیارِ محاسبہ بن جاتا ہے۔

اس وقت اصل خطرہ یہ نہیں کہ ایک دن کی گفتگو ختم ہو گئی، اصل خطرہ یہ ہے کہ ہم اسے “فتح” اور “شکست” کی کہانی بنا کر اپنی زبان، اپنے مزاج، اور اپنے مقصد کو بگاڑ دیں۔ مکالمہ کوئی کھیل نہیں کہ اس کے بعد جشنِ فتح منایا جائے؛ یہ ایک مسلسل فکری ذمہ داری ہے۔ اگر ہم اسے تماشہ بنا دیں تو دلیل کی وقعت بھی گھٹتی ہے اور دعوت کا وقار بھی۔ ہمارے لیے اصل کامیابی یہ ہے کہ ہم علمی تواضع، اخلاقی سنجیدگی، اور خاموش وقار کے ساتھ اپنی بات رکھیں، اور اپنے رویّے سے یہ ثابت کریں کہ ہم جیت کے نہیں، حق کے طالب ہیں

اور اب آخر میں: مجھے محسوس ہوا کہ اس مکالمے میں اگر کسی چیز نے دل کو تازگی دی تو وہ یہی شمائل تھے: گفتگو میں وقار، اختلاف میں شائستگی، جواب میں سنجیدگی، اور وہ تبسم جو مخاطب کو دشمن نہیں بناتا۔ “شمائل” لفظ خود صفات اور اخلاق کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اگر اس واقعے سے کوئی بڑا سبق لیا جا سکتا ہے تو وہ یہی ہے کہ دین کی بات حق کے ساتھ بھی ہو اور اخلاق کے ساتھ بھی، ورنہ حق بھی کم اثر رہ جاتا ہے اور دل بھی دور ہو جاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نیتوں کو پاک فرمائے، زبان میں حکمت دے، ہمارے کلمات میں برکت رکھے، اور انہیں ہدایت کے دروازے کھولنے کا ذریعہ بنا دے، بند کرنے کا نہیں۔ آمین۔

وما علينا إلا البلاغ

12 thoughts on “شمائلِ دعوت: مکالمۂ “وجودِ خدا”، وقار، اور ایک ضروری توازن”

  1. Asef Iqbal Nadwi

    ماشاءاللہ بہت ہی عمدہ تجزیہ اللہ تعالی علم وعمل میں برکت عطا کرے۔آمین
    مؤذن )آصف اقبال ندوی )

    1. جزاکم اللہ خیراً مولانا آصف اقبال ندوی صاحب۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب آپ ہی کی شفقت اور اعتماد کا نتیجہ ہے؛ اور الحمدللہ آپ کے بعد مجھے تقریبا دس سال تک اذان دینے کی سعادت نصیب ہوئی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا بہترین اجر عطا فرمائے، اور آپ کی یہ رہنمائی میرے لیے صدقۂ جاریہ بنا دے۔ آمین۔

  2. السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

    مکرم محترم حضرت مولانا حزیفہ صاحب ندوی
    دامت برکاتہم العالیہ

    آپ کا مضمون دراصل ہمیں یہ سمجھاتا ہے کہ دین کی دعوت صرف مناظرہ جیتنے کا نام نہیں، بلکہ دل تک بات پہنچانے کا نام ہے
    اگر گفتگو وقار، شائستگی اور حکمت کے ساتھ ہو تو اختلاف کے باوجود بات اثر رکھتی ہے اس مکالمے میں اصل کامیابی یہی تھی کہ دین کی بات سنجیدگی اور احترام کے ساتھ عوامی سطح پر رکھی گئی، بغیر شور تضحیک اور جذباتی انداز کے
    سبق یہ ہے کہ
    حق بات کہی جائے
    لہجہ نرم ہو
    مقصد انسان کو ہرانا نہیں بلکہ راستہ دکھانا ہو۔
    ایسی گفتگو دلوں کے دروازے بند نہیں کرتی بلکہ کھولتی ہے

    محمد تنظیم قاسمی سنبھلی

    1. JAWARIA SARFRAZ

      ماشاءاللہ بارک اللّٰه فی عمرك
      آپ نے نہایت عمدہ انداز میں اس مناظرے کو قلمبند کیا ہے اور مفتی شمائل صاحب کی صفات ،اخلاق اور حق گوئی کو سراہاہے۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ آپ کے کلمات میں برکت دے اور انہیں ہدایت کا ذریعہ بنادے ۔آمین
      جزاکم اللّٰه خیرا کثیرا واحسن الجزاء فی الدنیا والآخرۃ

  3. محمد طلحہ مظاہری

    ماشاءاللہ۔ یہ مناظرے کا ایک نہایت متوازن اور درست تجزیہ ہے، جس میں مفتی شمائل کی کاوش اور اس مناظرے کی اہمیت کو کم کیے بغیر بات کی گئی ہے۔ آخر میں ہر دو مناظر کے لیے غور و فکر کے نہایت دلچسپ نکات پیش کیے گئے۔ نفسیات اور تجربات کے باب میں جو بات تحریر فرمائی ہے نہایت ہی عمدہ لکھا ہے آپ نے، اور شاید اسی موضوع پر اگر کچھ بسط سے لکھا جائے تو سودمند ہوگا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top